Home Opinion محکمہ آبپاشی کی ترقی میں پنجاب کاکردار

محکمہ آبپاشی کی ترقی میں پنجاب کاکردار

0
32


فصلوں کی پیداوار کے لیے آبپاشی ایک اہم حصہ ہے۔ آبپاشی زراعت معاشی نمو کی بڑی صلاحیت کا تعین کرتی ہے کیونکہ یہ جی ڈی پی کا 20 فیصد ہے اور صوبے کی 50 فیصد سے زائد افرادی قوت کو پورا کرتی ہے۔ پنجاب میں آدھے سے زیادہ دیہی پیداوار زمین پر پانی کے نظام کے سب سے بڑے فریم ورک میں سے ایک کے زیر آب کھیتوں سے حاصل ہوتی ہے۔


پانی پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایک اہم وسیلہ ہے اور اس میں آبپاشی زراعت ملک کی سماجی و معاشی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

“پنجاب حکومت کی تین سالہ کارکردگی”
محکمہ آبپاشی کی بہتری کے لیے 55 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کو 82 فیصد بڑھا کر31 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی محکمہ آبپاشی کے M & R بجٹ کی مد میں 9 ارب روپے کے فنڈز فراہم کئے جانے کی تجویز دی گئی ہے جو موجودہ مالی سال سے 37 فیصد زیادہ ہے.


حکومت پنجاب نے مالی سال2021-22 کے بجٹ میں محکمہ آبپاشی کے میگا پراجیکٹ جلال پور کینال کی تعمیر کے لیے 7195 ملین روپے مختص کیے یہ نہر خوشاب اور جہلم کے اضلاع کی (1,700,00) ایک لاکھ ستر ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرئے گی۔ اس نہر کی لمبائی 115کلومیٹر طویل ہے اور 1350 کیوسک پانی ڈسچارج ہوگا۔ اس نہر سے دس مزید چھوٹی نہریں نکلیں گی اور 25 راجباہ تعمیر کیے جائیں گے۔

موجودہ حکومت نے ایک اور میگا پراجیکٹ گریٹر تھل کینال (چوبارہ برانچ)کی زمین کے حصول کے لیے 830 ملین روپے مختص کیے ہیں یہ پراجیکٹ گریٹر تھل کینال چوبارہ برانچ ضلع بھکر، لیہ، خوشاب، مظفر گڑھ اور جھنگ کے 294110 ایکڑ غیر آباد رقبے کو سیراب کرے گی

بجٹ 2021-22 میں ایس ایم بی لنک کینال کی تخلیق نو اور میلسی سائفن میں اضافے کے لیے175 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایس ایم بی لنک کینال سندھنائی میلسی اور میلسی بہاول لنک کے ذریعے جنوبی پنجاب کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس کینال پر میلسی سائفن کی تخلیق نو کی جائے گی جس سے ایس ایم بی لنک کینال کی پانی کی ترسیل کی صلاحیت11400 کیوسک سے بڑھ کر 13100 کیوسک ہو جائے گی۔

بیراج اور پنجند ہیڈ ورکس جیسی ترمیموں کی بحالی اور ترویج کے کاموں کے لیے 1850 ملین روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

دریائے چناب پرواقع ان بیراجز کی بحالی اور ترویج سے مزید 100 سال کے لیے ان علاقوں میں آبپاشی کے لیے پانی کی ترسیل یقینی بنائی جاسکے گی۔ تریموں بیراج کی بحالی اور ترویج سے اس بیراج سے پانی کی ترسیل 645000 کیوسک سے بڑھ کر 875000 کیوسک ہو جائے گی۔

پنجند بیراج کی بحالی و ترویج سے اس بیراج سے پانی کی ترسیل 7,00,000 کیوسک سے بڑھ کر 8,70,000 کیوسک ہو جائے گی جو کہ رحیم یار خان اور بہاولپور کے 1.54 ملین ایکڑ زمین کو سیراب کرئے گی۔

بجٹ مالی سال 2021-22 میں اسلام بیراج کی بحالی کے لیے 890 ملین روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ دریائے ستلج پر واقع اس بیراج کی بحالی سے اس بیراج سے پانی کی ترسیل 3,00,000 کیوسک سے بڑھ کر 33,2,000 کیوسک ہو جائے گی اور یہ پانی 10 لاکھ ایکڑ رقبے کو سیراب کرئے گا۔

اس کے علاوہ ڈاڈہوچہ ڈیم کی تعمیر کے لیے 800 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ضلع راولپنڈی میں کہوٹہ کے نزدیک بنائے جانے والے اس ڈیم کی تعمیر سے راولپنڈی کے شہریوں کو 35 ملین گیلن پینے کا صاف پانی میسر آئے گا۔

موہاٹہ ڈیم راولپنڈی کی تعمیر کیلئے 400 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

پاپن ڈیم پراجیکٹ راولپنڈی کی تعمیر کیلئے 300 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گبیر ڈیم پراجیکٹ چکوال کیلئے 200 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔


سوڑا ڈیم ڈی جی خان کی تعمیر کیلئے 830 روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گورنمنٹ انجینئرنگ اکیڈمی کے نئے کیمپس کی تعمیر کے لئے300 ملین روپے مختص کیے گئے ہی

۔پنجاب واٹر ایکٹ 2019 منظور کروایا گیا یہ ایکٹ صوبے کے پانی کے استعمال کو ریگولیٹ کرئے گا تاکہ ہمارا پانی کا ذخیرہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔

پنجاب واٹر پالیسی 2018بھی منظور کی گئی جو کہ اپنی نوعیت کی پہلی صوبائی پالیسی ہے اور یہ صوبے میں پانی کی جامع مینجمنٹ کی راہ ہموار کرتی ہے۔


حکومت نے پنجاب ایریگیشن ڈرینج اینڈ ریورز ایکٹ 2021ء بھی متعارف کروایا ہے۔


محکمہ آبپاشی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ڈیجیٹلائزیشن کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ جس سے 36ہزار سے زائد افرادی قوت کو بہتر طور پر مینج کرنے کے لئے ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم کا آغاز کیا گیا ہے۔

✨صوبے میں پانی چوری کے خلاف ایک جامع مہم چلائی گئی ہے۔ پانی چوروں کے خلاف 22ہزار374 شکایات موصول ہوئیں،6500ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا ہے اور3 ہزار پانی چوروں کو گرفتار کیا گیاجبکہ تقریباً 10ہزار ترمیم شدہ موگے اپنی اصل حالت میں بحال کیے گئے ہیں۔

محکمہ آبپاشی نے ایک صدی سے زیادہ پرانے آبیانہ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ای-آبیانہ سسٹم متعارف کروا دیا ہے۔ جس سے آبیانہ کو تخمینہ اور وصولی کے نظام کو کمپیوٹرائز کر لیا گیا ہے.


پنجاب کھل پنچائیت اتھارٹی ایکٹ 2019 منظور کیا گیا ہے۔ترقیاتی منصوبہ جات میں ٹھیکوں کے نظام میں شفافیت کیلئے (E-Procurement and E Tendering) کا نظام متعارف کروایا گیا۔4 سو میل سے زائد سیلابی پشتوں کی بحالی اور تعمیر نو کا کام کیا گیاہے۔

رواں سال صوبے بھر میں 4688 کینال میل پر مشتمل دوامی و ششماہی نہروں اور راجباہوں کی بھل صفائی مکمل کی گئی ہے۔
کمانڈ ایریا موڈیفکیشن پالیسی کا اجراء کینال کمانڈ میں نئے علاقوں کو شامل کرنے کی پالیسی کا اجراء کیا گیا۔

یکساں پانی کی فراہمی کی پالیسی اور وارا بندی کی اشاعت کی گئی ہے اور تمام بیراجوں پر ڈیٹا کولیکشن اور ماینٹرنگ کے لئے 136آن لائن سٹیشنز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
پانی پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لئے اہم وسیلہ ہے. پنجاب کے باقی محکموں کی طرح پنجاب حکومت نے محکمہ آبپاشی پر بھی اُتنی ہی توجہ دی ہے جو کہ عوام کی خدمت اور معاشی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے. محکمہ آبپاشی پنجاب کی قابل کاشت زمینوں کو مساوی آبپاشی فراہم کرتا ہے جس کی بنا پر زرعی پیداوار میں بھی اضافہ کرنا ہے. انشاءاللہ آنے والے وقتوں میں پنجاب حکومت عوام کے لئے مزید وسائل فراہم کرے گی جو کہ آنے والی نسلوں کے لیے اور مفید ثابت ہوگا.
حلیمہ فیصل
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here