Home Economics & Business اسلامی معاشی نظام سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام سے کیسے بہتر ھے

اسلامی معاشی نظام سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام سے کیسے بہتر ھے

4
451

نظام یا سسٹم ایسے طریقہ کار کو کہتے ہیں جس میں مخصوص مقاصد کے بہتر اور آسان حصول کے لئے کچھ مخصوص اصولوں کے تحت کام ہوتا ہے. مختلف مقاصد کے لئے مختلف قسم کے نظام ہوتے ہیں جیسا کہ انسانی ڈھانچے کو چلانے کیلئے نظام تنفس، نظام انہضام اسی طرح حکومتی مشینری چلانے کیلئے سب سے اھم اور بنیادی نظام معیشت کا ہوتا ہے۔

ان نظاموں کا مقصد مختلف چیزوں کی کارکردگی بہتر کرنا ہوتا ہے کاکردگی کی بہتری کا انحصار اس نظام کے لئے مخصوص کئے گئے اصولوں پر ہوتا ہے. اگرچہ معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام آپس میں بہت زیادہ جڑے اور ایک دوسرے میں گھسے ہوتے ہیں اور ایک قسم کے معاشی نظام سے اسی جیسے معاشرتی یا سیاسی نظام کو زیادہ تقویت ملتی ہے مگر بنیادی طور پر یہ علیحدہ ہی ہیں

معاشرتی نظام:
جس میں معاشرے کے آپس میں تعامل کے اصول و ضوابط ہوتے ہیں

سیاسی نظام:
جس میں معاشرے کے تمام نظاموں کو چلانے کے اصول و ضوابط ہوتے ہیں

معاشی نظام:
جس میں چیزوں کی پیداوار انکی ترسیل اور استعمال کے اصول و ضوابط ہوتے ہیں

معاشی نظام کو پھر دو درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں
1- بنیادی اصول: یعنی سرمایہ کی ملکیت وغیرہ کے اصول
2- فرعی اصول: یعنی سرمایہ کے استعمال کے اصول

اگرچہ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام کچھ ایک جیسا رویہ رکھتے ہیں البتہ اسلام اس میں بھی باقی دونوں سے مختلف ہے جسکی وضاحت ہم آگے چل کر کریں گے.

1-سرمایہ دارانہ نظام:
ایسا نظام جس میں سرمایہ پر مکمل کنٹرول (یعنی جملہ حقوق) ملک کی بجائے نجی شعبے کا (یعنی انفرادی مالکوں کا) ہوتا ہے اور انکو مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے منافع وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں ہوتی منڈیاں آزاد ہوتی ہیں.

سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیاں:

  • سرمایہ دارانہ نظام میں سب کچھ نفع و نقصان کے تصور کے گرد گھومتا ہے۔
  • * کسی کو اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی تگ و دو معاشرے کے لیے کتنے وسیع منفی اثرات پیدا کرے گی۔

2-اشتراکی نظام:
ایسا نظام جس میں سرمایہ پر کنٹرول نجی شعبہ کی بجائے ملک کا ہوتا ہے یعنی سرمایہ کو قوم کی مشترکہ ملکیت بنا دیا جاتا ہے تاکہ دولت کی پیداوار اور تقسیم ملکی اور غریبوں کے مفاد میں ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں (مثلا پیسے کا چند لوگوں کے پاس جمع ہونا اور غریبوں کا استحصال وغیرہ) کے ردعمل میں یہ نظام پیدا ہوا اس نظریے کی منظم بنیاد کہا جاتا ہے کہ کارل مارکس (جرمنی) نے رکھی اور انقلاب روس میں لینن کے ذریعے اس نظریئے کو تقویت ملی

اشتراکی نظام کی خرابی:

  • اگرچہ اشتراکی نظام بظاہر ایک اچھی سوچ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا مگر اس میں بھی شیطان نے اپنی اتباع کروائی اور اللہ کے آدم علیہ السلام کے لئے فرمان کو بھلا دیا گیا
  • * قلنا اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدی فلا خوف علیھم—- (یعنی ھدایت تو اللہ کی وحی میں ہے)
    پس جب لوگوں نے دیکھا کہ جو کم کام کرتا ہے اسکو بھی اور جو زیادہ محنت کرتا ہے اسکو بھی ایک جیسا فائدہ ہوتا ہے تو کام میں بیزاری پیدا ہونا شروع ہوئی- اس کے لئے پھر متبادل باتیں لائی گئی.

سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام دونوں بقاء کی جنگ میں:

اسکے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام نے بھی اس مقابل نظام کے سامنے کھڑا ہونے کے لئے اس میں شامل ہونے کی بجائے اپنے سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں کو ختم کرنے پر زور دیا اور متبادل قوانیں بنائے مثلا مناپلی آرڈینس وغیرہ
ایک نظام سب کچھ لوگوں کے کنٹرول میں دے رہا تھا اگرچہ کچھ چیکس بھی لگا دیئے گئے تھے تو دوسری طرف دوسرا نظام سب کچھ ملک کے کنٹرول میں دینے پر تل گیا تھا جیسے بھٹو دور میں تمام اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا اس کو آپ جانتے ہوں گے کیونکہ بھٹو اشراکی گروپ کا حامی تھا اور اسکے تعلقات اشتراکی ممالک سے زیادہ تھے

3- اسلامی معاشی نظام:

اسلامی معاشی نظام کیا ھے اور پہلے دو نظاموں پر اسکو کون سی برتری حاصل ہے…..

اسلام سرمایہ(سوائے کچھ مخصوص چیزوں کے) کی نجی ملکیت کا تو انکار نہیں کرتا البتہ اس پر کچھ شرائط لگاتا ہے
قرآن میں اللہ فرماتا ہے
وفی اموالھم حق للسائل والمحروم (یعنی انکے نجی سرمایہ میں کچھ اور لوگوں کا بھی حق ہے… یعنی اموالھم سے نجی ملکیت تو ثابت ہے البتہ ساتھ ہی زکوہ اور صدقات کی صورت میں کچھ شرائط بھی منسلک ہیں اسلام کے معاشی نظام کی بنیادی خوبیاں یہ ہیں

*- سرمایہ کی نجی ملکیت (سوائے چند کے) تسلیم کی گئی ہے
*- نجی ملکیت میں سے معاشرے کی بہتری اور غریبوں کی فلاح کے لئے ایسے حقوق رکھے گئے ہیں کہ جو متوازن اور بہترین نتیجہ دینے والے ہیں
*- ان حقوق کے قواعد ایسی ہستی(اللہ) نے رکھے ہیں جو انسان کی خالق ہے نہ کہ اس ہستی (انسان) نے جس پر خود قانون لاگو ہونے ہیں اور جس کی نیچر ہر انسان کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے
*- ان اصولوں کی پیروی سے تشکیل پانے والا ایک معاشی طور پر کامیاب اور بے نظیر معاشرے کی مثال موجود ہے جیسے آہستہ آہستہ اثر ہوتے ہوتے عمر بن عبدالعزیز کے دور میں زکوۃ لینے والے کا نہ ملنا
*- ان حقوق کو خالی لفظوں تک نہیں چھوڑا گیا بلکہ پورے اسلامی نظام میں ایسا ربط (coherence) ہے کہ باقی پورا اسلامی نظام ایک دوسرے کو تقویت دیتا ہے
جیسے چوری کو روکنے کے لئے خالی گناہ کہ کر بس نہیں کی گئی بلکہ اس کو تقویت دینے کے لئے حد لاگو کی گئی ہے پھر مزید تقویت کے لئے غریبوں کی مدد پر ابھارا اور غریبوں کی مدد پر ابھارنے کے لئے آخرت کا عقیدہ اور جنت جہنم کا عقیدہ ہے پھر توحید کا عقیدہ بھی اسی لئے ہے کہ جب انسان کو یہ یقین ہو گا کہ مجھے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں بچا سکتا تو پھر اسکے دیئے ہوئے پورے دین پر عمل آسان ہو گا کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ یعنی (اسلام کے علاوہ قیامت کو کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا)

4 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here