13.5 C
London
Wednesday, July 28, 2021

تعلیمی میدان میں پنجاب حکومت کی کارکردگی پر ایک نظر

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img


قوموں کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالتے ہی پنجاب حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر دی۔ پنجاب میں تعلیمی نظام کو درست کرنے کا بیڑہ ڈاکٹر مراد راس کو دیا گیا. جنہوں نے اپنی کثیر جہتی پالیسیوں سے نہ صرف تعلیم بلکہ سکولوں کے بنیادی انفراسٹرکچر سے معیار تعلیم تک ہر انداز میں بہتری لائی۔ پچھلی حکومتوں نے تعلیمی نظام بہتر کرنے کی کوشش تک نہیں کی کیونکہ انکی .سوچ صرف سڑکوں پلوں میٹرو تک ہی محدود تھی اور جان بوجھ کر لوگوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا.

پچھلی حکومت میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کبھی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال ہی نہیں کیا گیا حالانکہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پاکستان آرمی کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے بڑا ادارہ ہے. جبکہ ڈاکٹر مراد راس نے پنجاب کے تعلیمی نظام کو فائلوں کے پسماندہ چکر سے نکال کر ڈیجیٹائز کیا۔ ہیومن ریسورس مینیجمینٹ کے ڈیجیٹائز نظام کے تحت شفافیت کے فروغ اور برق رفتار کے لیے چار ماڈیول –

  • ای ٹرانسفر،
  • ای پروفائلنگ،
  • ای لیور
  • ای ریٹائرمنٹ

کی سہولیات شامل کیں. ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اساتذہ گھر بیٹے باعزت طریقے سے ٹرانسفر، ریٹائرمنٹ اور چھٹی کی درخواست جمع کرا سکتے ہیں. پہلے اساتذہ کو اپنی ٹرانسفر کروانے کے لئے لاکھوں رشوت دینا پڑتی تھیں. اساتذہ کو پڑھانے پر توجہ دینے کی بجائے اپنے معاملات میں پھنسایا ہوا تھا. جب سے ان لائن ٹرانسفر کا سسٹم شروع ہوا تو کرپشن کا کاروبار بھی بند ہوا اور اساتذہ اب گھر بیٹھے ہوئے اپنی ان لائن ٹرانسفر کروا لیتے ہیں انہیں دفتروں میں چکر نہیں لگانے پڑتے اور اس سسٹم سے شفافیت کے عمل کو یقینی بنایا گیا اور شفارش سسٹم کا بھی خاتمہ ہوا۔حکومت نے اب تک ای پروفائلنگ کے تحت 388,342 پروفائلز تصدیق کے بعد اپ ڈیٹ کر دی ہیں ۔ ای ٹرانسفر کے تحت 70000 اساتذہ کے تبادلے ہو چکے جس کے باعث 2.5 ارب روپے سالانہ کی بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہوا۔

ای لیو کی سہولت سے بھی اب تک 21 لاکھ جبکہ ای ریٹائرمنٹ سے 5000 اساتذہ استفادہ کر چکے
پنجاب حکومت شرحِ خواندگی میں اضافے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ اس ضمن میں تعلیمی سال 2021 تا 22 کے دوران 10 لاکھ بچوں کو سکول میں لانے کے عزم کے ساتھ “سکول داخلہ مہم 2021-22” کا آغاز کیا گیا۔ محض 5 ماہ کے دوران 7 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات کو سکولوں میں لایا گیا جن میں سے زیادہ تر تعداد لڑکیوں کی یے. کورونا وباء کے باوجود اتنی تعداد میں بچوں بچیوں کو سکولز میں واپس لانا پنجاب حکومت کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے. جس کا سہرا وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے. اسکے علاوہ
مختلف وجوہات کی بنیاد پر صبح کے سکول میں حاضر نہ ہو سکنے والے طلباء کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف آفٹر نون اسکول پروگرام کا آغاز کیا ہے،جس کے تحت 577 سرکاری سکولوں میں سہ پہر کی کلاسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن کی تعداد میں اضافے کے لیے مزید سکولوں کی نشاندھی بھی کر لی گئی ہے۔


کمزور طبقے کی فلاح کے وژن کے تحت یکساں تعلیمی مواقع کی فراہمی موجودہ حکومت کی ترجیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹرانسجینڈرز کے لیے ملتان میں ایک مخصوص سکول کا قیام ایک اہم ترین سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرانسجینڈرز کے لئے تاریخ میں پہلا سکول ملتان میں کھولا گیا اور اب پنجاب کے ہر ضلع میں ان کے لئے سکول کھولے جائیں گے. جہاں ٹرانسجینڈرز کو بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل کورسز بھی کروائیں جائے گا. اس محروم طبقے کو معاشرے کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جاتا تھا لیکن پنجاب حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ وہ ہر طبقے کے لئے اقدامات کر رہی ہے.


پنجاب حکومت نے پنجاب سکول کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن کے تحت سرکاری سکولوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا. نتیجتاً 13 اضلاع میں 2000 کلاس رومز، 17 اضلاع میں 1000 سائینس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی لیبز، 10 اضلاع میں 400 لائبریریوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ 11 اضلاع میں 110 ماڈل سکولوں کے قیام کا کام آخری مراحل میں ہے۔


رٹہ سسٹم کا خاتمہ کر کے طلباء کی تجزیاتی و سائنسی صلاحیتوں کے نکھار کے لیے بھی متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ اردو کا بطور ذریعہء تعلیم نفاذ اس جانب ایک اہم قدم ہے۔ پرائمری سطح پر نصاب کے اردو میں اجراء سے پنجاب بھر کے 40 لاکھ طلباء مستفید ہو رہے ہیں۔ طلباء کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے پنجاب کے پہلے STEM – سائینس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں 20,000 طلباء نے اپنی ویڈیوز جمع کروا کر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔


کورونا کے دوران جب دیگر شعبوں کی طرح پوری دنیا کا تعلیمی نظام بھی درہم برہم ہو چکا تھا، پنجاب حکومت نے خلا پر کرنے کے لیے تعلیم گھر نامی مربوط پروگرام کا آغاز کیا جس میں کیبل چینل کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ اور موبائل ایپلیکیشن بھی شامل ہے، تاکہ طلباء گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر سکیں۔

- Advertisement -spot_imgspot_img
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here