19 C
London
Friday, July 23, 2021

اپنی اصلاح خود کریں

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

اللہ کی مخلوق کم و بیش 36 ہزار اقسام ہیں جس میں انسان بھی ایک ہے اللہ نے انسان کو جو خوبیاں عطا کی ہیں ایسی خوبیاں کسی بھی خلق میں ناپید ہیں انسان کو اللہ نے سب سے بڑا تحفہ نطق کا دیا ہے انسان کو اللہ نے اعضاء وجوارح عطا کیے جس کا استعمال انسان اچھے یا برے کاموں میں کرتا ہے اور سب سے بہترین عطیہ اللہ تعالی کا یہ ہے کہ اس نے انسان کو عقل و فہم اور دانائی سے نوازا ہے اس کے لیے زمین و آسمان مسخر کیے اور اپنی نشانیوں کو انسان کے سامنے بیان کیا تھا کہ انسان کا عقیدہ اور ایمان پختہ ہو جائے اور انسان اس کی اطاعت کرے

انسان غلطیوں اور گناہوں کا پتلا ہے غلطی کرنا اس کی سرشت میں شامل ہے اس کے باوجود اللہ نے اپنے بندوں کی مغفرت کا وعدہ کیا ہے لیکن کچھ ایسے بھی انسان اس دنیا میں بستے ہیں جو صرف دوسروں کی غلطیوں پر انگشت نمائی کرتے ہیں اور دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اندر بھی کچھ خامیاں ہیں ان کے اندر بھی برائی کے کچھ عنصر موجود ہیں اصل بات یہ ہے کہ انسان خود اپنی خامیوں اور اپنی غلطیوں کو نہیں گنواتا بلکہ اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں چھپانے کے لئے دوسروں کے عیوب کو عیاں کرتا ہے

چنانچہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جتنا آسان غیروں کی عیب جوئی کرنا ہے اتنا ہی مشکل خود شناسی ہے ہم دوسروں کی اصلاح کا بیڑا تو اٹھا سکتے ہیں مگر اپنی اصلاح کے معاملے میں کوتاہی نظر آتے ہیں

ایک بات قابل غور بھی ہے اور قابل مشاہدہ بھی کے اگر ایک انگلی ہم کسی کی غلطی جانب اٹھاتے ہیں تو چار انگلیاں ہماری جانب اٹھ جاتی ہیں اس وقت بھی ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ شاید وہی خامی ہمارے اندر بھی موجود ہے اور یہ بات صد فیصد سچ ہے کہ جب تک ہم اپنے قول پر عمل نہیں کریں گے ہم دوسروں کو اس کے زیر اثر نہیں لا سکتے یہی کمی ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے اور ہم اسے “ناممکن” کہتے ہیں

اگر ہماری سوچ میں گہرائی ہو تو یہی ناممکن ہماری کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے لفظ “ناممکن” سے “نا” نکال دے تو “ممکن” ہو جاتا ہے اور ہم اسے باآسانی انجام دے سکتے ہیں .”نا” لفظ ہیں تو تمام جدوجہد اور کاوشو کی جڑ ہے اسی” نہ” کے لئے تو ہم بار بار کوشش کرتے ہیں اور یہی” نہ “ہماری راہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تمام تگ و داسی “نہ” کے لیے ہوتی ہے۔

نپولین بونا پارٹ کی کامیابیوں کا راز اسی” نا “یا “نہیں” میں مضمر تھا بقول نپولین اس کی زندگی کی لغت میں لفظ” نہیں” یا “نہ” نہیں ہے کچھ یہ داستان انگریزی کے لفظ impossible کی ہے. انگریزی میں سیلس انداز میں اس لفظ کو ادا کر کے بھی کبھی کام کے نہ ہونے کی مہر ثبت کر دیتے ہیں لیکن یہی الفاظ خود متکلم کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ اس میں جو راز مخفی ہے وہ خفیف سی کاوش کے بعد عیاں ہوتا ہے یہی impossible جو اپنی زبان سے کہتا ہے possible ، (am) IM یعنی یہ ناممکن چیخ کر کے تحفے میں ممکن ہو پھر بھی ہماری فہم و فراست اس کو قبول نہیں کرتی

بعض اوقات انسان یہ کیوں سوچ لیتا ہے کہ اگر اس میں کوئی خامی ہے تو وہ دور نہیں ہو سکتی جبکہ ایسا نہیں ہے اگر انسان کوشش کرے تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ انسان اپنے اندر اچھی عادتیں پیدا کرکے ایک مثال قائم کرے بلکہ ہوتا تو یوں ہے کہ” اندھے کے ہاتھوں میں چراغ” جس سے اندھے کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ دوسرے اس سے مستفید ہوتے ہیں

ہم دوسروں پر ہنستے ہیں اور دوسرے ہماری ذات سے اپنی اصلاح کرتے ہیں ہم دوسروں کی غلطیوں پر ہنستے ہیں ہم دوسروں کی قابلیت دیکھ کر حسد کرتے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ بچائے حسد کے ہم ان پر رشک کریں اور اپنے اندر اتنی زیادہ قابلیت و اہلیت پیدا کریں گے وہی ہماری طاقت بن جائے دوسروں کو ٹوکنے سے زیادہ بہتر ہے کہ اپنی اصلاح کی جائے

یہ کام اسی وقت شروع کردی ہو سکتا ہے کہ ہماری نظر اس سوال پر جائے کیسے شروع کرے اور کہاں سے شروع؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس سے پہلے کچھ نہ ہوا ہو اسے شروعات کہتے ہیں بالکل اسی طرح اگر ہم خود اپنی اصلاح کے بارے میں آج ہی سے ابتدا کریں اور دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا شروع کریں تو شاید بہت حد تک ہم ایک کامیاب زندگی گزارنے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں

- Advertisement -spot_imgspot_img
Malik Muneeb Mehmood
Freelance digital media writer / Blogger / Columnist / Social media activist
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

8 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here