13.5 C
London
Wednesday, July 28, 2021

لوہار کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ تک

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

‏لاھور ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس امیر بھٹی نے چند دن پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اور اسی دن سابق چیف جسٹس قاسم خان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس تھا جس میں چیف جسٹس امیر بھٹی نے شرکت نہیں کی۔
سابقہ چیف جسٹس قاسم خان نے جس طرح لاھور ہائی کورٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ منصف کے طور پر جج صاحبان کا کردار بہت اہم ہوتا ہے جبکہ قاسم خان سے پہلے شائدہی کسی چیف جسٹس نے‏ انصاف کی فراہمی کو چند مخصوص لوگوں کے لئے وقف کر دیا۔

New Chief Justice Ameer Bhatti

ایک کیس میں ڈی سی اور‏ڈی آئی جی فیصل آباد کو بار بار عدالت میں بلا کر زلیل کیا گیا۔ اور وہیں فیصل آباد میں جج اور بار کا مسئلہ تھا اس کو حل نہیں کروایا گیا۔ قاسم خان نے ن لیگی وکلاء کو ریلیف دیا اور ان کے کیس من پسند عدالتوں میں لگوائے۔

Justice Qasim khan


جسٹس امیر بھٹی صاحب نے قاسم خان کے لگائے گئے‏رجسٹرار ہائی کورٹ پرسنل سٹاف آفیسر ٹو چیف جسٹس اور جوڈیشنل اکیڈمی کے ڈی جی کو تبدیل کر دیا ہے یہ تینوں لوگ ن لیگ کو ریلیف دینے میں پیش پیش ھوتے تھے۔ لاھور ہائیکورٹ کو لوہار ہائی کورٹ بنا کر رکھ دیا تھا جو انصاف یکساں طور پر سب کو دستیاب ہونا چاہئے تھا وہ صرف ایک خاندان کی میراث بنا دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ صرف ایک خاندان اور مافیا کے لیے انصاف کرتا‏تھا۔ اعظم نذیر ٹارڑ ، عابد ساقی اور احسن بھون جیسے ن لیگی وکلاء کو نوازہ گیا۔

نئے آنے والے چیف جسٹس امیر بھٹی صاحب سے گزارش ہے اور امید ہے کہ لاھور ہائی کورٹ پر جو لوہار ہائیکورٹ کا سیاہ دھبہ لگا ہے وہ جلد ہی اسے قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے ذریعے ختم کریں گے‏جہاں۔ عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ پاکستان ہر آنے والے دن ترقی کرتا جائے۔ پاکستان زندہ باد

- Advertisement -spot_imgspot_img
Umar Siddique
Writer is Lawyer and Social Media Activist.
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here