19 C
London
Friday, July 23, 2021

راوی شہر منصوبہ کیوں ضروری یے؟

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

شہری آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے اور منصوبے کے تحت شہر آباد کئے جائیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ لوگ دیہاتی علاقوں سے نوکری کے مواقع کی تلاش میں اور اعلی تعلیم کے حصول کے لئے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان شہروں کے انفراسٹرکچر پر بوجھ پڑتا ہے۔

موجودہ حکومت نے لاہور شہر کے بے ہنگم پھیلاو کو روکنے کے لئےایک نیا شہر آباد کرنے کا اہتمام کیا ہے جو ایک منصوبے کے تحت بنایا جارہا ہے. اس سے پہلے پاکستان میں اسلام آباد ایک واحد شہر ہے جو منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا تھا اور تقریبا اسی ہزار ایکڑ پر مشتمل یے.


عمومی نقطہ نظر کے مطابق راوی شہر ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ پر محیط نہایت ہی خوبصورت طریقے سے بنایا جانے والا شہر ہو گا. تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ تین فیزز میں مکمل ہوگا۔ پہلا فیز 44 ہزار ایکڑ پر مشتمل ہوگا.
چونکہ یہ شہر جدید منصوبہ بندی کے تحت بنایا جائے گا اس لئے یہ پاکستان کا پہلا شہر ہو گا جو ماحولیات کو کم سے کم نقصان پہنچائے گا اور ایسا سمارٹ سٹی ہوگا جو عوام کی جدید ضروریات کو بھی 0ورا کرے گا۔ دوسرے الفاظ میں سمارٹ سٹی کی داغ بیل ڈالی جا رہی ہے۔ چالیس لاکھ رہائشیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے اس شہر کی بنیاد ڈالی گئی ہے. ‏‏


راوی سٹی میں ماحولیات، صحت، معیشت کے ساتھ جدید علوم کی عام شہریوں تک رسائی یقینی بنانے کے ایجوکیشن سٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا. جدید ریسرچ انسٹیٹیوٹس قائم کیے جائیں گے اور اسی سلسلے میں اب تک متعدد یونیورسٹیز راوی سٹی میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں. راوی سٹی منصوبہ آنے والی نسلوں کی بقاء کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معاشی ترقی میں بھی بھرپور حصہ ڈالے گا.


اس منصوبے سے لاکھوں شہریوں کو نہ صرف اپنے ذاتی گھر کی فراہمی ممکن ہوگی بلکہ ایک موضوں طرز رہائش بھی دستیاب ہو گا۔
وزیر اعظم کے اعادہ کے مطابق اس منصوبے کے پہلے فیز میں مقامی آبادی کے لیے باعزت روزگار کے 1 لاکھ مواق بھی پیدا ہوں گے. جو کہ کرونا سے متاثر ہونے والی معیشت کے لئے بہت اچھی خبر ہے۔ معیشت کی بحالی اور فروغ میں تعمیراتی سیکٹر بہر قہف بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔


اس منصوبے کے تحت امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے پانی کے مسائل بھی کافی حد تک حل ہوجائیں گے۔ لاہور شہر کو پانی کی بتدریج کمی کا سامنا ہے اور بدقسمتی سے پچھلی حکومتوں نے اس طرف کوئی توجہ

نہیں دی. آنے والے وقت میں پاکستان کو پانی کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا یے بلکہ نوم چومسکی کے مطابق آنے والی جنگیں بھی پانی کی تقسیم اور حصول پر ہوا کریں گی. ہندوستان پہلے ہی ایسی کارروائیوں میں مشغول ہے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف پانی روک رہا ہے بلکہ ہمارے دریاؤں پر ڈیم بھی بنائے جا رہے ہیں۔ مزید برآں مون سون میں دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافے کے ساتھ ہی ہندوستان پانی کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اسی طرح اگر کبھی ہندوستان اپنا پانی راوی میں چھوڑے گا تو آس پاس کے گاؤں اور علاقے مکمل طور پر تباہ ہونے کا احتمال ہو گا . کہا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ اس مسئلے کا بھی حل نکال سکے گا اور اسکے لیے تین بیراج بنائے اس منصوبے کے پی سی 1 میں شامل کئے گئے ہیں۔ جن میں پانی کو ہنگامی صورتحال میں ذخیرہ کیا جاسکے گا، اس طرح پانی کی سطح میں جو کمی ہو رہی ہے اس سے نمٹنے کے لئے بہتر انتظام ہو گا۔ اور بالفرض اگر بھارت نے پانی چھوڑ بھی دیا تو ہم سیلاب سے بھی بچ جائیں گے اور وہی پانی ذخیرہ بھی ہوجائے گا.


‏اسکے علاوہ سات واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں گے، پہلے شہر کا تمام گندہ پانی دریائے راوی میں جا رہا ہے جبکہ راوی سٹی پراجیکٹ کے تحت بنائے گئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس روزانہ 0.58 ارب لیٹر پانی ٹریٹ کرنے کی صلاحیت رکھیں گے. اس صاف شدہ پانی سے 75 ہزار ایکڑ زمین سیراب کی جا سکے گی اور گراؤنڈ واٹر کا لیول برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی

اس منصوبے کی تکمیل کے لئے راوی اربن دیولپمنٹ اتھارٹی بنائی گئی ہے اور یہ منصوبہ زیر تکمیل ہے سی ای او تجربہ کار عمران امین بہت پر امید ہیں کہ یہ منصوبہ تمام مقاصد حاصل کرے گا.
اسکا کل رقبہ ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ یے اور پہلا فیز 44 ہزار ایکڑ پر مشتمل یے. پہلے فیز کا نام سیفائر بے ہے. اس منصوبے کی منفرد بات یہ ہے کہ یہ گورنمنٹ کی سبسڈی سے نہیں بنے گا بلکہ یہ پرائیویٹ سرمایہ کاری سے بنے گا.


اور نہ ہی دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی طرح زرعی زمین پر بن رہا ہے بلکہ یہ ایک پورا شہر آباد ہو رہا یے جو ہاؤسنگ سوسائٹیز سے مختلف ہےجس میں اندرون بیرون سرمایہ کاری آنے کی بہت امید ہے۔ مزید برآں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے سنہری موقع ہے کہ وہ اس منصوبے میں اپنا سرمایہ لگائیں اور منافع کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں

- Advertisement -spot_imgspot_img
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here