13.5 C
London
Wednesday, July 28, 2021

کابینہ اراکین کا پروٹوکول محدود ~خوش آئند فیصلہ

- Advertisement -spot_imgspot_img
- Advertisement -spot_imgspot_img

کابینہ کے اگلے اجلاس میں اس سلسلے میں جامع حکمت عملی متوقع ہے

وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اراکین اور اہم شخصیات کو دیے گئے غیر معمولی پروٹوکول کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عوام کو تکلیف سے بچانے کے لیے پروٹوکول کو محدود کرنے کا حکم دے دیا۔ امید ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے بعد نہ صرف اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ریاست مدینہ کے تصور کو فروغ ملے گا جہاں سب انسان برابر ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم آفس کے نمائندے نے نے بتایا کہ:
‘وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ وزرا اور دیگر وی آئی پیز کے سیکیورٹی عملے کو کم کرکے دو اہلکار پر مشتمل کیا جائے۔
قیاس ہے کہ اس فیصلے کا تعلق ماضی قریب میں
وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کی سیکیورٹی سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیر اعظم نے کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ:
وہ نہیں جانتے کہ وزیر اعظم نے نوٹس کیوں لیا؟ کیونکہ ان کے خیال میں وفاقی وزرا کا پروٹوکول اور سیکیورٹی پہلے ہی بہت کم ہے۔

عوامی نقطہ نظر سے یہ بات سراسر غیر منطقی ہے جبکہ حالات کے پیش نظر سیکورٹی کے مسائل ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کے بھاری سیکیورٹی پروٹوکول کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ کے پالتو کتے کی سرکاری گاڑی میں شیر کی وڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے جس کے بارے میں وہ وضاحت بھی دے چکے تاہم پروٹوکول ایک مسئلہ ہے۔ سرکاری لوگوں کو راستہ دینے کے لئے کئی کئی گھنٹے ٹریفک روک دی جاتی تھی جس سے وقت کا ضیاع اور افرادی قوت کا نقصان ہوتا تھا۔

موجودہ صورتحال میں جبکہ ملک ایک خطیر رقم کا مقروض ہے بلکہ افغانستان میں امریکی فوج کی مرحلہ وار واپسی کے پیش نظر دہشت گردی کے ممکنہ واقعات سے بچنا بھی ضروری ہے۔
مزید برآں وزیر اعظم نے ایک مرتبہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے سیکیورٹی پروٹوکول پر بھی سوال اٹھا چکے ہیں جب وہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور ان کا استقبال کیا گیا۔ چنانچہ دیکھنا ہو گا کہ یہ فیصلہ کس حد تک نمایاں شخصیات کے تحفظ کو ممکن بنا سکے گا۔

منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے آخر میں وزیراعظم عمران خان نےاہم شخصیات کے پروٹوکول اور سیکیورٹی وفاقی وزرا تک بڑھانے کے معاملے پر بھی بات کی۔ تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ وزرا کی سلامتی اور ان کے پروٹوکول کو کم کرنے اور اس میں ردو بدل کی گنجائش موجود ہے اوراز سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے گزشتہ منگل کو یہ بھی اعلان کیا تھا کہ:
وہ ٹیکس دہندگان کے پیسے اور عوام کو تکلیف سے بچانے کے لیے ’پروٹوکول اور سیکیورٹی کے ساتھ کسی نجی تقریب میں نہیں جائیں گے‘۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا تھا کہ:
وہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے وزرا، گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو فراہم پروٹوکول اور سیکیورٹی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور فیصلہ کریں گے کہ ہم اخراجات کو کم سے کم اور عوامی تکلیف کو کس طرح ختم کر سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ آئندہ ہفتے اس سلسلے میں ایک جامع پالیسی لے کر آئے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ
ہم لوگوں کو مغلوب کرنے کے لیے نوآبادیاتی میراث کو ختم کردیں گے۔
تاہم ہماری ناقص رائے کے مطابق امریکہ کو ائر سپیس دینے سے انکار کے بعد کم از کم وزیر اعظم کی سیکورٹی میں کمی غیر ضروری ہوگی۔ اس وقت ملک کسی بھی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا

- Advertisement -spot_imgspot_img
Omer Azamhttp://www.pak-times.com
Omer Azam is Social Media Marketer, very active on propeller; he is very much interested in International Politics.
Latest news
- Advertisement -spot_img
Related news
- Advertisement -spot_img

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here